Thursday, 6 August 2020

لرزتے ہونٹ کہیں کیا بھلا خدا حافظ

لرزتے ہونٹ کہیں کیا بھلا خدا حافظ
اگر یہی ہے تمہاری رضا خدا حافظ
پڑاؤ رات کا تھا، زندگی کا تھوڑی تھا
بلا رہی ہے جرس کی صدا، خدا حافظ
وہ میرے سانس کی صورت تھا میرے سینے میں
پھر اک دن اس نے اچانک کہا خدا حافظ
بدل چکا ہے زمانہ بھی اور منزل بھی
مسافرانِ" رہِ "عشق" کا خدا حافظ"
نکل پڑے ہیں مگر مسلکِ "زمانہ" پر
طریقِ عشق میں کب تھا روا خدا حافظ
بدن سے جان نکلتی ہے اس خیال سے بھی
اور ایک تم ہو کہ جاذب! کہا خدا حافظ

شکیل جاذب

No comments:

Post a Comment