Wednesday, 5 August 2020

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے
ہر اک پیاسے کو بادل لکھ رہا ہے
نہ رو گستاخ بیٹے کے عمل پر
تِرا گزرا ہوا کل لکھ رہا ہے
پڑھو ہر موج آیت کی طرح ہے
وہ دریا پر مسلسل لکھ رہا ہے
تھمے پانی کو تبدیلی مبارک
ہوا کا ہاتھ ہلچل لکھ رہا ہے
بنا کر شہر کا نقشہ وہ بچہ
بڑے حرفوں میں جنگل لکھ رہا ہے
خدائے امن جو کہتا ہے خود کو
زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے

ظفر صہبائی

No comments:

Post a Comment