Wednesday, 5 August 2020

آج کل گردش میں ہے اپنا ستارہ ہر جگہ

چلچلاتی دھوپ نے غصہ اتارا ہر جگہ
چڑھ گیا اونچائی پر ذہنوں کا پارا ہر جگہ
اس زمیں پر ہم جہاں بھی ہیں وہاں تاراج ہیں
آج کل گردش میں ہے اپنا ستارا ہر جگہ
اپنی کیا گنتی، فرشتے بھی وہاں مارے گئے
خواہشوں نے مینکا کا روپ دھارا ہر جگہ
مانگ لیتی ہے ہوا اچھے مواقع دیکھ کر
اک نہ اک مٹھی میں رہتا ہے شرارا ہر جگہ
غرق طوفانوں میں کر دو یا بھنور میں ڈال دو
ہمتوں کے ہاتھ چھوتے ہیں کنارا ہر جگہ

ظفر صہبائی

No comments:

Post a Comment