قتل کرتے ہو یار آنکھوں سے
اتنے ہیں تیز وار آنکھوں سے
پوچھتے ہو کہ کتنے گھائل ہو
ہو گئے بے شمار آنکھوں سے
جی میں آتا ہے اب صنم میرے
کیسے آئے گا اب قرار کہیں
وہ کرے بے قرار آنکھوں سے
بھینی بھینی تمہاری خوشبو ہے
دل ہوا مشکبار آنکھوں سے
کتنے عاشق ہیں یہ تمنا کیۓ
دیکھ لے ایک بار آنکھوں سے
بک گئے شہر کے بھی سوداگر
وہ کرے کاروبار آنکھوں سے
کتنے دیوان بن گئے بزمی
وہ کہے جب اشعار آنکھوں سے
عرفان بزمی
No comments:
Post a Comment