Wednesday, 5 August 2020

قتل کرتے ہو یار آنکھوں سے

قتل کرتے ہو یار آنکھوں سے
اتنے ہیں تیز وار آنکھوں سے
پوچھتے ہو کہ کتنے گھائل ہو
ہو گئے بے شمار آنکھوں سے
جی میں آتا ہے اب صنم میرے
ہم مریں بار بار آنکھوں سے
کیسے آئے گا اب قرار کہیں
وہ کرے بے قرار آنکھوں سے
بھینی بھینی تمہاری خوشبو ہے
دل ہوا مشکبار آنکھوں سے
کتنے عاشق ہیں یہ تمنا کیۓ
دیکھ لے ایک بار آنکھوں سے
بک گئے شہر کے بھی سوداگر
وہ کرے کاروبار آنکھوں سے
کتنے دیوان بن گئے بزمی
وہ کہے جب اشعار آنکھوں سے

عرفان بزمی

No comments:

Post a Comment