میں ایک حوالہ ہوں مجھے دھیان میں رکھنا
اک پھول مِرے نام کا گلدان میں رکھنا
آنکھوں سے بتا دینا دل و جان کے احوال
افسانے کو افسانے کے عنوان میں رکھنا
سو حادثے ہوتے ہیں تعلق کے سفر میں
تصویر بھی حیران ہے آنکھیں بھی ہیں حیران
حیران" کو کیا "دیدۂ حیران" میں رکھنا"
موت" اور "خریدار" بتا کر نہیں آتے"
کچھ جنسِ وفا وقت کی دکان میں رکھنا
ہوتا ہے جو ہر آن اسے دھیان سمجھنا
جو ہو نہیں سکتا اسے امکان میں رکھنا
میں حاصلِ تفریق کبھی بھی نہ بنوں گا
تم جب کبھی رکھنا مجھے میزان میں رکھنا
افتخار مغل
No comments:
Post a Comment