کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہے
مِرے بدن میں لہو تیز گام کرتا ہے
ہر ایک "لفظ" کو ماہِ تمام کرتا ہے
مِری زبان سے جب وہ کلام کرتا ہے
کئی دنوں کے سفر سے میں جب پلٹتا ہوں
شکایتوں کی "ادا" بھی بہت نرالی ہے
وہ جب بھی ملتا ہے "جھک" کر سلام
کسی کے ہاتھ میں خنجر کسی کے ہاتھ میں پھول
قلم ہے ایک مگر کتنے "کام" کرتا ہے
جب اس سے ملتا ہوں، دفتر کو بھول جاتا ہوں
ظفر وہ باتوں ہی باتوں میں شام کرتا ہے
ظفر صہبائی
No comments:
Post a Comment