Saturday, 8 August 2020

کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہے

کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہے
مِرے بدن میں لہو تیز گام کرتا ہے
ہر ایک "لفظ" کو ماہِ تمام کرتا ہے
مِری زبان سے جب وہ کلام کرتا ہے
کئی دنوں کے سفر سے میں جب پلٹتا ہوں
وہ اپنے پورے "بدن" سے کلام کرتا ہے
شکایتوں کی "ادا" بھی بہت نرالی ہے
وہ جب بھی ملتا ہے "جھک" کر سلام
کسی کے ہاتھ میں خنجر کسی کے ہاتھ میں پھول
قلم ہے ایک مگر کتنے "کام" کرتا ہے
جب اس سے ملتا ہوں، دفتر کو بھول جاتا ہوں
ظفر وہ باتوں ہی باتوں میں شام کرتا ہے

ظفر صہبائی

No comments:

Post a Comment