بہت ہی مہنگی مجھے اپنی زندگانی پڑی
وہ اس لیے کہ تِرے ہجر میں بتانی پڑی
کچھ اتنا سہل نہ تھا روشنی سے بھر جانا
نظر دِیے پہ بڑی دیر تک جمانی پڑی
خطوں کو کھولتی دیمک کا شکریہ ورنہ
قدم قدم پہ ہزیمت کا سامنا ہے مجھے
قدم قدم پہ اگرچہ ہے کامرانی پڑی
مِری انا کے تقاضے نہ ہو سکے پورے
میں سر اٹھا کے چلا تو نظر جھکانی پڑی
پرانے غم پہ نئی مئے ہے بے اثر اظہر
کہیں سے ڈھونڈھ کے لاۓ کوئی پرانی پڑی
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment