Tuesday, 18 August 2020

بہت ہی مہنگی مجھے اپنی زندگانی پڑی

بہت ہی مہنگی مجھے اپنی زندگانی پڑی
وہ اس لیے کہ تِرے ہجر میں بتانی پڑی
کچھ اتنا سہل نہ تھا روشنی سے بھر جانا
نظر دِیے پہ بڑی دیر تک جمانی پڑی
خطوں کو کھولتی دیمک کا شکریہ ورنہ
تڑپ رہی تھی لفافوں میں بے زبانی پڑی
قدم قدم پہ ہزیمت کا سامنا ہے مجھے
قدم قدم پہ اگرچہ ہے کامرانی پڑی
مِری انا کے تقاضے نہ ہو سکے پورے
میں سر اٹھا کے چلا تو نظر جھکانی پڑی
پرانے غم پہ نئی مئے ہے بے اثر اظہر
کہیں سے ڈھونڈھ کے لاۓ کوئی پرانی پڑی

اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment