کس درجہ ہڑبونگ ہے بھائی، کیسا الٹا طور ہے بھیّا
دو نمبر بازار لگا ہے، چھٹ بھیوں کا دور ہے بھیا
چار چفیرے مورت مورت، اجلی میلی صورت صورت
باہر ہے کچھ اور تماشا، دل کے اندر اور ہے بھیا
کھدڑے ڈھولک تھاپ کے اوپر کرتے ہیں تک تھیا تھیا
خسرو کے دو بول سناؤ، بھگت کبیر کا دوہا گاؤ
آج ذرا بِرہا کی رُت ہے، بھِیتر میں کچھ اور ہے بھیا
تجھ سُوں کوئی کام پڑا ہے اک دو پل کو آن ملو ناں
آن ملو ناں آن ملو ناں، کام بڑا فی الفور ہے بھیّا
ایک جگہ سچ بول دیا تھا، لشکر مجھ کو ڈھونڈ رہا ہے
ایک گپھا میں چھپ بیٹھا ہوں، کمرہ غارِ ثور ہے بھیا
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment