عروضیے
جلے کٹے، بھنے ہوئے، سڑے ہوئے عروضیے
جمالیات کے عدو
یہ شاعری کے مستری
الف گرا گئے کہیں، کہیں پہ ی بٹھا گئے
یہ بات بات پر لڑیں، بگڑ پڑیں، جھگڑ پڑیں
"کوئی کہے، "روا نہیں
یہ صف بہ صف ادھر ادھر بٹے ہوئے عروضیے
یہ لفظ لفظ معترض، یہ حرف حرف بد نظر
یہ نظم نظم جل مریں، یہ ہر غزل پہ بد گماں
پہاڑ کھود کر نکالتے بھی ہیں تو اک چوہا
مرا ہوا، سڑا ہوا
انہیں کسی بھی دلنشین شعر سے نہیں غرض
یہ واؤ تاؤ جوڑ کے
یہ علتیں مروڑ کے
سخن کی ساری ہڈیوں سے ماس کو بھنبھوڑ کے
ہیں مطمئن کھڑے ہوئے، سڑے ہوئے عروضیے
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment