Friday, 18 December 2020

قاصد کبھی آیا بھی تو غیروں کے گھروں تک

قاصد کبھی آیا بھی تو غیروں کے گھروں تک

پہنچا نہ کبھی نامہ تِرے دربدروں تک

گر آگ لگائی ہے تو پھر یہ بھی کرم کر 

پہنچا دے مِری راکھ بھی دریوزہ گروں تک

سورج کی کوئی کرن تو آنی تھی کہاں سے

آیا نہ کوئی جگنو بھی تاریک گھروں تک

بازارِ محبت میں کبھی دل ہی تھا کافی

اب دامِ محبت کا بھی پہنچا ہے سروں تک

قارون بھی بن جاتا ہے محتاج کسی دن

آیا ہے شہِ حُسن بھی اب گدیہ گروں تک

پیاسے ہو اگر میرے تو خود آؤ مِرے پاس

دریا نہیں جاتے کبھی پیاسوں کے گھروں تک

حائل مِرے رستے میں رہے واعظ و ناصح

مُشکل سے پہنچ پایا ہوں شوریدہ سروں تک

اک موت کے نُسخے نے کیا درد کا درماں

پہنچی نہ ہوا تک بھی مِری چارہ گروں تک

منزل کی نہیں دل میں رفاقت کی ہے خواہش

یا رب! یہ سفر جاری رہے ہمسفروں تک

💥اندازۂ طوفان ہوا بھی تو نعیم اب💥

آ پہنچا ہے جب بپھرا ہوا پانی سروں تک


نعیم چشتی​

No comments:

Post a Comment