Saturday, 24 April 2021

اے محبت ترا جواب نہیں

 اے محبت! تِرا جواب نہیں

تِرے جیسا کوئی جناب نہیں

تیری آنکھوں نے گفتگو کی ہے

اس سے بڑھ کر کوئی خطاب نہیں

بس خیالوں کی بات ہے صاحب

ہاں مکمل ہوئے یہ خواب نہیں

گل چمن میں کھِلے بہت سارے

کوئی تیری طرح گلاب نہیں

موت تکلیف دہ تو ہے لیکن

زیست جیسا کوئی عذاب نہیں

ایک دریا ہے ریت کا زہرا

اس سے آگے کوئی چناب نہیں


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment