Friday, 2 April 2021

جو قدم آسماں پہ جاتے ہیں

 جو قدم آسماں پہ جاتے ہیں

گرتے ہیں تو زمیں پہ آتے ہیں

ان کو مٹی بھی پھر نہیں ملتی

جو ستاروں میں گھر بناتے ہیں

رات سہلاتی ہو گی جسموں کو

سارا دن جو تھکن کماتے ہیں

بس وہی جانتا ہے اپنا غم

جس کو اپنے ہی چھوڑ جاتے ہیں

وہ پرندے سہی مگر ہر شام

لوٹ کر گھر تو آ ہی جاتے ہیں

ایک ہاشم اور ایک تنہائی

دونوں اک داستاں سناتے ہیں


سید ہاشم رضا

No comments:

Post a Comment