جو قدم آسماں پہ جاتے ہیں
گرتے ہیں تو زمیں پہ آتے ہیں
ان کو مٹی بھی پھر نہیں ملتی
جو ستاروں میں گھر بناتے ہیں
رات سہلاتی ہو گی جسموں کو
سارا دن جو تھکن کماتے ہیں
بس وہی جانتا ہے اپنا غم
جس کو اپنے ہی چھوڑ جاتے ہیں
وہ پرندے سہی مگر ہر شام
لوٹ کر گھر تو آ ہی جاتے ہیں
ایک ہاشم اور ایک تنہائی
دونوں اک داستاں سناتے ہیں
سید ہاشم رضا
No comments:
Post a Comment