Tuesday, 20 July 2021

پہلے کیا گیا مجھے یکتائے رنگ و بو

 پہلے کیا گیا مجھے یکتائے رنگ و بو

پھر رنج کی تہوں میں اتارا گیا مجھے

تو اضطراب میں ہی لیا ہو گا میرا نام

ورنہ کبھی سکوں میں پکارا گیا مجھے

ماتھے پہ لکھ دیا گیا اس خوش ادا کا ہجر

اور ہجر کے دروں میں سنوارا گیا مجھے

پیروں کو روکتی رہی آواز رفتگاں

صحرائے خاک و خوں میں اتارا گیا مجھے

اب مجھ میں ڈھونڈئیے نہ نشاں شہرِ ذات کا

ہجرت کے روزنوں میں نتھارا گیا مجھے

اس سے بھی دل کا ساتھ کوئی دیر ہی رہا

جس خواب کے فسوں میں اتارا گیا مجھے

وہ شہر سر نگوں کہ جہاں دل کہے جسے

اس شہر سر نگوں میں سنوارا گیا مجھے


آئلہ طاہر

No comments:

Post a Comment