Sunday, 18 July 2021

یہ جو الفت جتا رہے ہو تم

 یہ جو الفت جتا رہے ہو تم

فرض کوئی نبھا رہے ہو تم

یہ جو موسم بہار آیا ہے

روٹھ کر اس میں جا رہے ہو تم

تیرا ہی بن کے میں رہوں گا سدا

خواب کیسے دکھا رہے ہو تم

کس کا ہے آخر انتظار تمہیں

شمعِ غم کیوں جلا رہے ہو تم

پاس بیٹھو نہ اس طرح میرے

دوسروں کو جلا رہے ہو تم

چشمِ تر دیکھ کر کہا خانم

کیا خدا کو منا رہے ہو تم


فریدہ خانم

No comments:

Post a Comment