یہ جو الفت جتا رہے ہو تم
فرض کوئی نبھا رہے ہو تم
یہ جو موسم بہار آیا ہے
روٹھ کر اس میں جا رہے ہو تم
تیرا ہی بن کے میں رہوں گا سدا
خواب کیسے دکھا رہے ہو تم
کس کا ہے آخر انتظار تمہیں
شمعِ غم کیوں جلا رہے ہو تم
پاس بیٹھو نہ اس طرح میرے
دوسروں کو جلا رہے ہو تم
چشمِ تر دیکھ کر کہا خانم
کیا خدا کو منا رہے ہو تم
فریدہ خانم
No comments:
Post a Comment