خواب رکھے ہوئے تھے بستے میں
اس لیے سو گیا تھا رستے میں
پھول تو خیر پھول ہیں، لیکن
اچھے لگتے ہو تم جو ہنستے میں
موج میں ہو تو بات کرتا ہے
ایسی مستی ہے یار مستے میں
ہم بھی دنیا خرید لائے ہیں
مِل رہی تھی یہ شال سستے میں
کیسے کیسوں کو بِکتے دیکھا ہے
اک سلام، اور اک نمستے میں
ایک بستی مجھے بتاتی ہے
لوگ اجڑتے ہیں کیسے بستے میں
ورنہ کچھ اور شعر ہو جاتے
گِرہیں ڈھیلی پڑی ہيں کستے میں
دیر کرتے نہيں کبھی عامی
سانپ اور اعتبار ڈستے میں
عمران عامی
No comments:
Post a Comment