ہر درد سے باندھے ہوئے رشتہ کوئی گزرے
قاتل کوئی گزرے، نہ مسیحا کوئی گزرے
👁آئینہ بہ ہر راہگزر بن گئیں👁 آنکھیں
اک عمر سے بیٹھے ہیں کہ تم سا کوئی گزرے
وہ تشنگیٔ جاں ہے کہ صحرا کو ترس آئے
اب ہونٹوں کو چُھوتا ہوا دریا کوئی گزرے
ان سے بھی علاجِ غمِ پنہاں نہیں ہو گا
کہہ دیں جو اگر ان کا شناسا کوئی گزرے
تاج بھوپالی
No comments:
Post a Comment