آج بھی ہم پھرتے ہیں تیری سنت لے کر سینے میں
پیدا مکے میں ہوتے ہیں، اور تسلیم مدینے میں
دربانوں کے ناز اٹھا کر اندازہ ہو جائے گا
کتنی دنیا بدلی گئی ہے اس کی ایک مہینے میں
آنے دیتے تو اچھا تھا باری اگلے کوزے کی
ہم نے الٹا پیاس بڑھا لی قطرہ قطرہ پینے میں
لگے ہوئے ہیں اس کے کام پہ جیسے جیسے کاریگر
لاگت پوری ہو جائے گی اُجرت کی تخمینے میں
اس بے فیض کی ہمسفری کا شوق تھا جن جن لوگوں کو
لوٹ کے ساحل پر آتے ہی ہوں گے الگ سفینے میں
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment