Tuesday, 13 July 2021

راحت افروز غم دل ہے مگر آپ سے کم

 راحت افروز غمِ دل ہے، مگر آپ سے کم

یہ ہی تقدیر کا حاصل ہے، مگر آپ سے کم

میں نے مانا مِری بربادی کے عنوانوں میں

ناروا وقت بھی شامل ہے، مگر آپ سے کم 

کہکشاں چاند کی دہلیز پہ نُور افشاں ہے

شمع بھی رونقِ محفل ہے، مگر آپ سے کم

رات فٹ پاتھ پہ گزری مِری سورج کی طرح

دن بھی عنوانِ مسائل ہے، مگر آپ سے کم

چاندنی رات نے جُھلسا دئیے پھولوں کے بدن

میرا احساس بھی قاتل ہے، مگر آپ سے کم

وقت کی تیز ہواؤں نے مجھے توڑ دیا

امتحاں زیست کا مشکل ہے، مگر آپ سے کم


جاوید اکرم

No comments:

Post a Comment