Tuesday, 13 July 2021

تری پائل کی چھن چھن سا کوئی سر جاگتا ہے

 مِرے بِستر پہ آتے ہی تصور جاگتا ہے

تِری پائل کی چھن چھن سا کوئی سُر جاگتا ہے

کوئی بد بخت اس شب کو بدل لیتا ہے خیمہ

مقدر جاگتا ہے حُر کا، سو حُر جاگتا ہے

اگرچہ تم سے بِچھڑے بھی زمانے ہو گئے ہیں

ابھی تک تیرے لہجے کا ہی تأثر جاگتا ہے

بہت محتاط رہنے کی ضرورت پھر بھی ہو گی

یقیں جتنا بھی ہو تم کو کہ یہ گُر جاگتا ہے

یہ ہم جو بے خطر سوتے ہیں اپنے گھر میں یارو

تسلی ہے کہ سرحد پر بہادر جاگتا ہے

کہیں پردیس میں بیٹا گیا روزی کمانے

کوئی بابا لیے آنکھیں یہاں پُر جاگتا ہے

رشِید حسرت ہمیں اب فیصلہ کرنا پڑے گا

یہ ہر ہر گام پر کیسا تناظر جاگتا ہے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment