دن فُرصتوں کے چاندنی کی رات بیچ کر
ہم کامیاب ہو گئے جذبات بیچ کر
ہم نے بھی پیلے کر دئیے ہیں بیٹیوں کے ہاتھ
تھوڑی بہت بچی تھی جو اوقات بیچ کر
مرتی ہے دھرتی پیاس سے رُندھنے لگے گلے
کچھ لوگ مالا مال ہیں برسات بیچ کر
سوچا ہے اب خرید لیں کچھ چاند پر زمین
بھائی کا حصہ، باپ کے جذبات بیچ کر
طُرہ ہے سر پہ یا کہ ہے دو چار من کا بوجھ
رُتبہ ملا ہے چین کے دن رات بیچ کر
پھُولے نہیں سما رہے مُخبر چمن میں آج
گُلشن کا راز دُشمنوں کے ہاتھ بیچ کر
لگتا ہے اہل دُنیا کو اب پانا ہے سلیل
عُہدہ خُدا کا، آدمی کی ذات بیچ کر
کلدیپ سلیل
No comments:
Post a Comment