میں جا رہا ہوں سو گھر بار کو خدا حافظ
ہر ایک دوست کو، اغیار کو خدا حافظ
یہ گھر نیا ہے یہاں آ کے مجھ سے مل مِرے دوست
اب ان حسیں در و دیوار کو خدا حافظ
اب اس چمن سے کوئی واسطہ نہیں اپنا
ہر ایک پھول کو، ہر خار کو خدا حافظ
ہمیشہ کے لیے ہم نے تو موند لیں آنکھیں
ہر ایک دیدۂ بیدار کو خدا حافظ
بہت ملول ہیں احباب میرے جانے سے
شریکِ درد کو، غمخوار کو خدا حافظ
جو اِک عزیز بضد ہے کہ آنکھ کھول ذرا
اسی عزیز کے اصرار کو خدا حافظ
ہماری شعلہ بیانی کی دھوم تھی صادق
سو آج قوتِ گفتار کو خدا حافظ
ولی صادق
No comments:
Post a Comment