Monday, 8 November 2021

میں جا رہا ہوں سو گھر بار کو خدا حافظ

 میں جا رہا ہوں سو گھر بار کو خدا حافظ

ہر ایک دوست کو، اغیار کو خدا حافظ

یہ گھر نیا ہے یہاں آ کے مجھ سے مل مِرے دوست

اب ان حسیں در و دیوار کو خدا حافظ

اب اس چمن سے کوئی واسطہ نہیں اپنا

ہر ایک پھول کو، ہر خار کو خدا حافظ

ہمیشہ کے لیے ہم نے تو موند لیں آنکھیں

ہر ایک دیدۂ بیدار کو خدا حافظ

بہت ملول ہیں احباب میرے جانے سے

شریکِ درد کو، غمخوار کو خدا حافظ

جو اِک عزیز بضد ہے کہ آنکھ کھول ذرا

اسی عزیز کے اصرار کو خدا حافظ

ہماری شعلہ بیانی کی دھوم تھی صادق

سو آج قوتِ گفتار کو خدا حافظ


ولی صادق

No comments:

Post a Comment