یقیں کی فصل کو جب کاٹنے اوہام لگ جائیں
ضروری ہے مچانے حسرتیں کہرام لگ جائیں
کہا؛ ماں باپ کو بھیجوں، تو بولے؛ کچھ برس ٹھہرو
بھلا کچھ دن کی چاہت میں تمہارے نام لگ جائیں
دلِ حسرت زدہ بک جائے، وہ بازار بتلاؤ
جہاں دیمک لگی لکڑی کے اچھے دام لگ جائیں
کہاں پھر تشنگی بجھتی ہے دنیا کے مناظر سے
نظر کے منہ کو روئے یار کے جب جام لگ جائیں
دریچہ بند رہتا ہے مگر پھر بھی گزرتا ہوں
نجانے بخت کو تارے مِرے کس شام لگ جائیں
تمہارے شہر میں کھولوں گا اک مکتب محبت کا
وہاں کے طفل بھی کرنے مجھ ایسے کام لگ جائیں
قمر آسی
No comments:
Post a Comment