Monday, 4 April 2022

جب سے اتری ہوں آسمان سے میں

 جب سے اُتری ہوں آسمان سے میں

تب سے الجهی ہوں اس جہان سے میں

دهوپ کے دشت میں پلٹ آئی

مہربانوں کے سائبان سے میں

تیری چاہت نے کر دیا رُسوا

کٹ گئی اپنے خاندان سے میں

روز ٹوٹی ہوں آئینوں کی طرح

روز گزری ہوں امتحان سے میں

صبح ہر لفظ میں تهی رُسوائی

پهر بهی بدلی کہاں بیان سے میں


عارفہ صبح خان

No comments:

Post a Comment