Friday, 10 June 2022

اے عاشق دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب ہے

 اے عاشقاں اے عاشقاں ہنگام کوچ است از جہاں 

در گوش جانم می رسد، طبل رحیل از آسماں 

اے عاشق! دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب ہے

میری روح آسمانی نقارے کی آواز سن سکتی ہے

نک سارباں برخاستہ قطارہا آراستہ 

از ما حلالی خواستہ چہ گفتہ اید اے کارواں 

دیکھو قافلہ صفوں میں چلنے کے لیے تیار کھڑا ہے

ہمیں بھی تیاری کرنے کو کہ دیا گیا ہے۔ اٹھو، قافلے کے ساتھ چلو 

ایں بانگ ہا از پیش و پس بانگ رحیل است و جرس 

ہر لحظہ ای نفس و نفس سر می کشد در لا مکاں 

یہ جو آواز سنائی دے رہی ہے وہ چلنے اور خراٹوں کے سوا کچھ نہیں

ہر لمحہ جان اور سانس ایک بے مقام جگہ پر جا رہے ہیں

زیں شمع ہائے سرنگوں زیں پردہ ہائے نیلگوں 

خلقے عجب آمد بروں تا غیب ہا گردد عیاں 

ان اوندھے شمع سے اور ان نیلے رنگ کے پردوں سے 

انفرادیتیں کھل رہی ہیں تاکہ رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے

زیں چرخ دولابی تورا آمد گراں خوابی تورا 

فریاد ازیں عمر سبک زنہار ازیں خواب گراں 

مجھے اس طرح کے آسمان سے گہری نیند آ گئی ہے

اس کیفیت میں شدید نیند سے دور رہنے کی کوشش کی جاتی ہے

اے دل سوئے دلدار شو اے یار سوئے یار شو 

اے پاسباں بیدار شو، خفتہ نشاید پاسباں 

اے دل! محبوب کے پاس چلو اور اے دوست! محبوب کے پاس چلو

چوکیدار! اٹھو، تمہارا اس طرح سونا ٹھیک نہیں ہے

ہر سوئے شمع و مشعلہ ہر سوئے بانگ و مشغلہ 

کامشب جہان حاملہ زاید جہان جاوداں 

چار سو چراغوں اور مشعلوں کی روشنی ہے، خوشی و مسرت کے شادیانے ہیں

اس لیے کہ آج شب یہ فانی دنیا ایک لافانی دنیا کو جنم دے گی

تو گل بدی و دل شدی، جاہل بدی عاقل شدی 

آں کو کشیدت ایں چنیں آں سو کشادت آں چناں 

تو خاک تھے اب دل بن گئے ہو، بیوقوف تھے اب سمجھدار ہو گئے ہو

جس نے تمہیں ایسا بنایا ہے وہ تمہیں بھی ایسے ہی وہاں لے جائے گا

اندر کشاکش ہائے او نوش است ناخوش ہائے او 

آب است آتش ہائے او بر وے مکن رو را گراں 

اس جھگڑے میں جو مصیبتیں آتی ہیں اسے شہد کی مٹھاس سمجھ

اس کی آگ کو پانی کی طرح ٹھنڈا سمجھ اور اس سے ناراض مت ہو

در جاں نشستن کار او توبہ شکستن کار او 

از حیلۂ بسیار او، چوں زرہ ہا لرزاں دلاں 

اس کے افعال روح میں جذب ہو جانا اور قسم توڑنا ہیں

بے شمار بہانوں سے سب کا دل ہوا میں ذرے کی طرح کانپتا ہے

اے ریش خندۂ رخنہ جہہ یعنی منم سالار دہ 

تا کئے جہی گردن بنہ ور نے کشندت چوں کماں 

ہنسی کی داڑھی پھوٹتی ہے یعنی میں حاکم ہوں

جس کی گردن میں تسمہ نہ ہو اسے کیسے مارا جائے

تخم دغل می کاشتی افسوس ہا می داشتی 

حق را عدم پنداشتی اکنوں ببیں اے قلتباں 

تم نے ہمیشہ دھوکے کا بیج بویا، اور پچھتائے بہت

 خدا  کے لیے یہ مت سوچو کہ تم ابھی ٹھیک ہو

اے خر بہ کاہ اولیتری دیگ سیاہ اولیتری 

در قعر چاہ اولیتری اے ننگ خان و خانداں 

آئے ٹھن کے گدھے اور گھر کا نام ڈبونے والے

بہتر ہوتا آپ کالی دیگ کی طرح کنویں کے نیچے پڑے رہتے

در من کسے دیگر بود کہ چشم ہا از وے جہد 

گر آب سوزنی کند ز آتش بود ایں را بداں 

میرے اندر کوئی اور رہتا ہے اور یہ نیند اسی سے جاری ہے

اگر پانی جلنے لگے تو سمجھ لینا کہ میری آگ کی وجہ سے ہے

در کف نہ دارم سنگ من با کس نہ دارم جنگ من 

بر کس نمیرم تنگ من زیرا خوشم چوں گلستاں 

میں نہ کسی سے لڑتا ہوں اور نہ کسی کو دباتا ہوں

میں اس کی وجہ سے ہمیشہ باغ کی طرح خوش رہتا ہوں

پس خشم من زاں سر بود وز عالم دیگر بود 

ایں سو جہاں آں سوں جہاں بہ نشستہ من بر آستاں 

پس میری آنکھوں کا تعلق کسی اور دنیا سے ہے

دنیا و آخرت کے درمیان دروازے کی چوکھٹ کی طرح بیٹھا ہوں

بر آستاں آں کس بود کو ناطق اخرس بود 

ایں رمز گفتن بس بود دیگر مگو در کش زباں 

چوکھٹ پر صرف وہی بیٹھتا ہے جو گونگا ہوتا ہے

میں صرف اتنا ہی اشارہ دیتا ہوں، تم سمجھو جاؤ اور چپ رہو 


مولانا رومی

No comments:

Post a Comment