عشق جس کو ملنگ کرتا ہے
دیوتاؤں سے جنگ کرتا ہے
بھنورا پیدائشی نہیں دل پھینک
رنگ غنچوں کا تنگ کرتا ہے
اس فرشتے کے ہاتھ چوموں جو
آسمانوں کو رنگ کرتا ہے
کام کرتی ہے آدمی کا زبان
کام بچھو کا، ڈنگ کرتا ہے
ذہن کرتا ہے شاعری میرا
یار کا انگ انگ کرتا ہے
ماسوا حسن کے ہر آفت سے
ماں کا تعویذ جنگ کرتا ہے
شعر پر دنگ سوچتے ہیں دوست
قیس کو کون دنگ کرتا ہے
شہزاد قیس
No comments:
Post a Comment