Tuesday, 12 July 2022

عشق جس کو ملنگ کرتا ہے

 عشق جس کو ملنگ کرتا ہے

دیوتاؤں سے جنگ کرتا ہے

بھنورا پیدائشی نہیں دل پھینک

رنگ غنچوں کا تنگ کرتا ہے

اس فرشتے کے ہاتھ چوموں جو

آسمانوں کو رنگ کرتا ہے

کام کرتی ہے آدمی کا زبان

کام بچھو کا، ڈنگ کرتا ہے

ذہن کرتا ہے شاعری میرا

یار کا انگ انگ کرتا ہے

ماسوا حسن کے ہر آفت سے

ماں کا تعویذ جنگ کرتا ہے

شعر پر دنگ سوچتے ہیں دوست

قیس کو کون دنگ کرتا ہے


شہزاد قیس

No comments:

Post a Comment