سب تمنائیں اور حسرتیں رہ گئیں
بخت ڈھل بھی چکا
ایک شب کی عزاداری ان بانجھ خوشیوں کی خاطر سہی
جن کے ملنے کی رُت آئی تو وصل کے موسموں پہ زوال آ گیا
ایک لمحے کا گریہ سہی
ایک ہی بین کافی سہی ان کی محرومیوں پر
جو سپنے اداسی میں ڈوبی ہوئی آنکھوں میں مر گئے
ایک ہی ہاتھ کا تھوڑا ماتم سہی اس ہنسی کے لیے
جس کو بس ایک لمحے میں
ہونٹوں کے گلشن سے ویرانی کے دشت میں لا کے پھینکا گیا
ایک سسکی سہی
ان گلابی سے ہونٹوں کا نیلا سا پڑ جانے کے سوگ میں
ایک آہ ہی بہت ہے کفارے کی خاطر
کفارہ
ہاں بجھتی ہوئی سانس کو
اور بجھانے کے کامل سعی کا کفارہ
سبز آنکھوں میں زردی کے موسم اتر آئے ہیں
نینوں کی چاروں جانب سیہ اک دھنک جس کے زائل یا غائب
یا کم ہونے کے جتنے آثار تھے سب ختم ہو گئے
تھوڑے زنجیر اس سانحے پہ چلیں
ایک مدت تِرے در پہ خدّام کی نوکری کرنے والا
یہ چنچل مہکتا اچھلتا ہوا دل بھی چپ ہو چکا
اور بس چپ نہیں اپنی مٹی سے پُر جھولی کو
جھاڑ کر تیرے دروازے سے اٹھ چکا
تھوڑا ماتم تو کر
تھوڑا ظاہر تو کر کہ تجھے درد ہے
میرے اندر ہی اندر سے مر جانے کا
تھوڑا ہی وقت ہے رو ! کہ پھر ہم کہاں
ہم کہاں اپنی اس رائیگانی کے پُرسوں کو لینے کی خاطر
اداسی بھگانے کے خوشیوں کو لانے کی خاطر
تِرے در پہ آ پائیں گے
تھوڑا ہی دیر کو مجھ کو پُرسہ تو دو
مجھ سے باتیں کرو
حسن رضا
No comments:
Post a Comment