Wednesday, 14 September 2022

نرالی ہے جہاں بھر میں وفا عباس غازی کی

 عارفانہ کلام منقبت سلام


نرالی ہے جہاں بھر میں وفا عباسؑ غازی کی 

وفا کو ناز ہے جس پر وفا عباسؑ غازی کی

برادر ہو کے بھی حسنینؑ کو کہتے رہے آقاؐ

برادر نہ کہا، یہ تھی حیا عباسؑ غازی کی

کبھی اشعار کی صورت کبھی دیدار کی صورت 

میری کُٹیا پہ رہتی ہے عطا عباسؑ غازی کی

مِرے دل کی مِرے فن سے یہ برسوں سے تھی فرمائش

کہ لاؤ منقبت بحرِ ثنا عباسؑ غازی کی

بنا لوں گا اسے سُرمہ میں اپنی آنکھ کا شائق

اگر مل جائے مجھ کو خاکِ پا عباسؑ غازی کی 


امتیاز احمد شائق 

No comments:

Post a Comment