بیٹھے بیٹھے حشر میں اک دن جا پہنچا میں
سارا جھوٹ اٹھائے سر پر
مکر و دغا کی ساری چالیں کاندھوں پر
پوٹلی میں چند کھوکھلے سجدے
ماہِ صیام کی بھوک میں ڈوبے کھوٹے روزے
آنکھوں میں عکس ہائے بُتاں کا
پورا البم ڈول رہا تھا
بایاں فرشتہ میرا کھاتہ کھول رہا تھا
ٹانگیں تھر تھر کانپ رہی تھیں
ابو امی بہن اور بھائی بیٹا بیٹی بیوی
سب میں بھول چکا تھا
جیسا سنا تھا، جیسا پڑھا تھا
حشر ذرا کچھ اس سے سوا تھا
سوچ میں گم تھا، اب کیا ہو گا؟
دایاں فرشتہ آلتی پالتی مار کے فارغ بیٹھا تھا
بائیں ہاتھ پہ حدِ نگاہ تک دفتر تھا کرتوتوں کا
سوچ میں گم تھا اب کیا ہو گا، کیسے ہو گا؟
کیونکر ہو گا، کون کرے گا؟
لمحہ بھر کو ٹھٹکا، کسی نے نام لیا ہو میرا جیسے
شہد سی میٹھی کوئی صدا تھی
کانوں میں رس گھول رہی تھی
مُڑ کر دیکھنے والا تھا کہ واپس دنیا لوٹ آیا
اور اب بیٹھا سوچ رہا ہوں
تھوڑا بوجھ تو ہلکا کر لوں
شرم و حیا کا دامن تھاموں
مہلت ہے، اس دل کو تھوڑا نہلا دوں
مہلت ہے، چند سِکے ہی اب چمکا لوں
شہد سے میٹھی کوئی صدا جب ان کانوں پر دستک دے تو
کم از کم یہ آنکھیں تو اس قابل ہوں کہ
دیکھ سکوں اس ہستی کو
جس کی دعا میں شامل تھا میں
جس کی دعا میں شامل ہوں میں
جس نے رب سے جب بھی مانگا
میرا آج اور کل ہی مانگا
مہلت ہے، اس دل کو تھوڑا نہلا دوں
مہلت ہے، چند سِکے ہی اب چمکا لوں
عابی مکھنوی
No comments:
Post a Comment