جہاں بھی راستہ میرے قدم جکڑتا تھا
تو شوق وصل کا رو رو کے پاؤں پڑتا تھا
کیا کمال مہارت سے خانماں برباد
اُجاڑا تُو نے جسے، شوق سے اُجڑتا تھا
یہ لشکروں کا تصور ہے بعد کا ورنہ
ہمارا سارا قبیلہ ہی جنگ لڑتا تھا
بڑھا تو سکتے تھے ہم وسعتِ خیال مگر
کہیں زمین، کہیں آسماں سکڑتا تھا
جُڑا ہوا تھا میں سجدوں کی سر زمین سے یوں
میں اس کی خاک سے اپنی جبیں رگڑتا تھا
وہاں کی خاص نشانی، سُلگتی راکھ کا ڈھیر
جہاں سے خانہ بدوشوں کا گھر اُکھڑتا تھا
جسے وہ کھوکھلا کرتے تھے رات دن مل کر
اسی درخت سے کیڑوں کا رزق جھڑتا تھا
تھی حاضرین کی ان میں زیادہ دلچسپی
جو واقعات میں اپنی طرف سے گھڑتا تھا
تمہارا اصل تبھی کُھل گیا تھا جب ہم سے
تمہاری شہ پہ کوئی کم نسب اکڑتا تھا
ملا وہ جب تو حُسن عشق تھا سراپا عشق
وہی جو فون پہ مجھ سے بہت جھگڑتا تھا
احتشام حسن
No comments:
Post a Comment