مجھ کو عطا کیا گیا مال و منال بھی
اٹھا نہ تھا ابھی مِرا دستِ سوال بھی
شاعر ہوں میں پتا مِرے وجدان کو ہے سب
مستقبلِ حیات بھی ماضی بھی حال بھی
ویسے تو آ دمی ہوں میں ٹھنڈے دماغ کا
تھوڑا بہت مزاج میں ہے اشتعال بھی
مغرور اتنا مہرِ درخشاں ہے کس لیے
ہر ارتقاء کے ساتھ لگا ہے زوال بھی
اس دورِ ارتقاء کی غضب چال دیکھیۓ
اڑنے لگے پروں پہ یہاں ماہ و سال بھی
تھی شعر گوئی حضرتِ زخمی کی بھی جدا
ملتی نہیں شفیق تمہاری مثال بھی
شفیق رائے پوری
No comments:
Post a Comment