Saturday, 1 April 2023

ساتھ چلنے کے لیے ساتھ ہونا بھی ضروری ہے

 ساتھ چلنے کے لیے

ساتھ ہونا بھی ضروری ہے

کچھ لوگ بہت پاس ہو کر بھی 

صدیوں کی دوری پر ملتے ہیں اور

کبھی کبھی آشنائی کا دعوٰی کرنے والے 

نادیدہ اجنبیت کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں

کسی موڑ پر بہت مشکل اور 

کھٹن لمحے میں ہاتھ تھامنا چاہو تو

وہ ہاتھ اجنبی لگتے ہیں دکھ کے

پاتال میں اترنے سے قبل

پلٹ کر دیکھو تو زندگی کی شام میں

سایہ بھی ساتھ نہیں ملتا

سو تنہائی سے آنگن آباد رکھتے ہیں

خامشی سے کمرہ بھرا بھرا لگتا ہے

ہوا جب کھلی کھڑکی پر دستک دیتی ہے

کمرے میں یادوں کے رنگ بکھرنے لگتے ہیں

آج کی شب بھی خوب رونق رہے گی

میں اور میری تنہائی

اک دوجے کا ہاتھ تھامے

خواب نگری میں اتریں گے

یادوں کا میلا لگے گا

خامشی کے شور میں

آنسو لو دیتے ہیں


نائلہ راٹھور

No comments:

Post a Comment