ساتھ چلنے کے لیے
ساتھ ہونا بھی ضروری ہے
کچھ لوگ بہت پاس ہو کر بھی
صدیوں کی دوری پر ملتے ہیں اور
کبھی کبھی آشنائی کا دعوٰی کرنے والے
نادیدہ اجنبیت کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں
کسی موڑ پر بہت مشکل اور
کھٹن لمحے میں ہاتھ تھامنا چاہو تو
وہ ہاتھ اجنبی لگتے ہیں دکھ کے
پاتال میں اترنے سے قبل
پلٹ کر دیکھو تو زندگی کی شام میں
سایہ بھی ساتھ نہیں ملتا
سو تنہائی سے آنگن آباد رکھتے ہیں
خامشی سے کمرہ بھرا بھرا لگتا ہے
ہوا جب کھلی کھڑکی پر دستک دیتی ہے
کمرے میں یادوں کے رنگ بکھرنے لگتے ہیں
آج کی شب بھی خوب رونق رہے گی
میں اور میری تنہائی
اک دوجے کا ہاتھ تھامے
خواب نگری میں اتریں گے
یادوں کا میلا لگے گا
خامشی کے شور میں
آنسو لو دیتے ہیں
نائلہ راٹھور
No comments:
Post a Comment