راضی برضا
شکوہ نہ بیش و کم کا، غم کا نہ کچھ گلا ہے
جس چیز کے تھے قابل، ملنا تھا جو، ملا ہے
شانِ کرم سے قائم ہستی کا سلسلہ ہے
شکرِ کریم دل کے آئینہ کی جِلا ہے
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہے
جو نعمتیں ملیں ہیں وہ کم ہیں یا ہیں وافر
ہر حال میں ہے لازم تقدیر پر ہوں شاکر
رنگ ظہورِ قدرت ہر ذرے سے ہے ظاہر
اول بھی تو ہے برحق مالک ہے تو ہی آخر
راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تری رضا ہے
فیض عظیم تیرا دنیا میں چار سُو ہے
تاروں میں نور تیرا، پھلوں میں تیری بو ہے
سر بہرِ شکر نعمت خم تیرے روبرو ہے
پُتلے ہیں ہم خطا کے بندہ نواز تو ہے
راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تری رضا ہے
جس حال میں رکھے تُو داتا ہمیں ہے رہنا
پھولوں میں یا تُلنا، یا درد و رنج سہنا
ہم نے ہے سر سے پا تک ملبوسِ شکر پہنا
دل میں یہی تمنا منہ سے یہی ہے کہنا
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہے
حاصل ہو سر بلندی یا ہو نصیب پستی
دو سرِ مۓ طرب ہو، یا عہدِ فاقہ مستی
ہو عیش و شادمانی یا رنج و تندستی
تسلیم اپنا شیوہ، مسلک ہے حق پرستی
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہے
ساز حیات کیا ہے سامان ہے یہ تیرا
جو اصلِ زندگی ہے، عرفان ہے یہ تیرا
سر چشمۂ کرم تُو، فیضان ہے یہ تیرا
بخشی ہیں نعمتیں جو احسان ہے تیرا
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہے
خوانِ کرم پہ تیرے مہمان ہے زمانہ
ملتا ہے رزق بن کر قسمت کا دانہ دانہ
جود و سخا کا مخزن ہے تیرا آستانہ
کیوں برق کے ہو لب پر ہر دم نہ یہ ترانہ
راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہے
برق دہلوی
منشی مہاراج بہادر
No comments:
Post a Comment