عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
حضورؐ آئے تو چمکیں فکرِ انسانی کی تنویریں
حضورؐ آئے تو ٹوٹیں جبر و محکومی کی زنجیریں
جمے ذہنوں کا زنگ اُترا، بجھے چہرے پہ نور آیا
حضورؐ آئے تو انسانوں کو جینے کا شعور آیا
تمدن آیا،۔ تہذیب آئی،۔ امن آیا، قرار آیا
حضورؐ آئے تو عالم پر بہار آئی، نکھار آیا
یتیموں اور فقیروں کو پتا ہیں مل گئیں آخر
حضورؐ آئے تو ذروں کو نگاہیں مل گئیں آخر
اخوت اور مساوات و محبت کا نظام آیا
حضورؐ آئے تو یہ توقیرِ ہستی کا مقام آیا
ضمیر جعفری
No comments:
Post a Comment