تنہائی کا معبد
تم نے رہنے کے لیے تنہائی چنی ہے
کرایہ دار بن کر رہو گے
یا مالک مکان؟
دیکھو، بہت فرق ہے
کرایہ دار تنہائی کی تنگ گھاٹیوں سے
گھبرا کر بھاگ سکتا ہے
فیصلہ بدل سکتا ہے
لیکن مالک کو سہنا پڑتی ہے
دیواروں کی سیلن
ٹپ ٹپ کرتے نل کا شور
بلب کی مسلسل پیلی روشنی
دیوار پر مصلوب کلاک کی ٹک ٹک
جون کی تپتی دوپہریں
جنوری کی یخ راتیں
اچھا تم سچ میں سہ لو گے
صنوبر الطاف
No comments:
Post a Comment