Friday, 5 May 2023

ان سے ملے تھے شہر محبت میں ایک دن

 ان سے ملے تھے شہرِ محبت میں ایک دن

دیکھا تھا ان نگاہوں کو حسرت میں ایک دن

اُس آدمی کو دیکھ کے ڈر سا لگا مجھے

آیا تھا جو گزار کے فُرقت میں ایک دن

چاہت زمانے بھر کی نگاہوں میں کیوں نہ ہو

آیا ہوں میں گزار کے جنت میں ایک دن

وہ لوٹ کر نہ آیا کبھی پھر ہمارے شہر

مانگا تھا جس نے ہم سے محبت میں ، ایک دن

اس وعدے کو نبھانے میں اک عمر لگ گئی

ان سے کیا تھا ہم نے جو عجلت میں ایک دن

راسخ میرے نصیب میں دو دن کی زیست تھی

آنے میں آیک دن ہوا، رخصت میں ایک دن


راسخ شاہد

No comments:

Post a Comment