Wednesday, 3 May 2023

روح بھی یہ پیاسی ہے قہقہے بھی زخمی ہیں

 روح بھی یہ پیاسی ہے قہقہے بھی زخمی ہیں

گفتگو کروں کیسے؟ رابطے بھی زخمی ہیں

پتھروں کی نگری میں ٹوٹ کر میں بکھرا ہوں

آج میری چاہت کے آئینے بھی زخمی ہیں

شعر میں کہوں کیسے بات میں بھلا دل کی

جب ردیف زخمی ہے، قافیے بھی زخمی ہیں

خواہشوں کی منزل بھی پُر خطر سی لگتی ہے

بارشوں کے پانی سے راستے بھی زخمی ہیں

حوصلہ پھر آج اپنا آزمائیں گے داؤد

آج اپنی منزل کے راستے بھی زخمی ہیں


داؤد اسلوبی

No comments:

Post a Comment