عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہر شخص جہاں کا سائل ہے ہر شخص جہاں کا منگتا ہے
اللہ دکھا دے مجھ کو بھی وہ شہر مدینہ کیسا ہے
خورشید رسالتؐ سے روشن کونین کا ذرہ ذرہ ہے
کیا عرش بریں کیا فرش زمیں ہر سمت انہیں کا جلوہ ہے
چڑیوں کی چہک پھولوں میں مہک تاروں میں چمک بھی ہے ان سے
خوش رنگ نظاروں کا یہ جہاں تخلیق نبی کا صدقہ ہے
مختار کسے کہتے ہیں ذرا اب مجھ کو زمانہ بتلائے
رخ اپنا جدھر کر دیتے ہیں وہ قبلہ وہی بن جاتا ہے
دنیا کی بلائیں بھی اب تو سائے سے مِرے کتراتی ہیں
سر پر جو مِرے محبوبؐ خدا کے دستِ کرم کا سایہ ہے
پڑھتا ہوں عالم نعت نبیﷺ اور مست عقیدت رہتا ہوں
ملتا ہے سکون دل تو مجھے بس ذکر نبیؐ میں ملتا ہے
عالم نظامی
No comments:
Post a Comment