Sunday, 14 May 2023

ہر شخص جہاں کا سائل ہے ہر شخص جہاں کا منگتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہر شخص جہاں کا سائل ہے ہر شخص جہاں کا منگتا ہے

اللہ دکھا دے مجھ کو بھی وہ شہر مدینہ کیسا ہے

خورشید رسالتؐ سے روشن کونین کا ذرہ ذرہ ہے

کیا عرش بریں کیا فرش زمیں ہر سمت انہیں کا جلوہ ہے

چڑیوں کی چہک پھولوں میں مہک تاروں میں چمک بھی ہے ان سے

خوش رنگ نظاروں کا یہ جہاں تخلیق نبی کا صدقہ ہے

مختار کسے کہتے ہیں ذرا اب مجھ کو زمانہ بتلائے

رخ اپنا جدھر کر دیتے ہیں وہ قبلہ وہی بن جاتا ہے

دنیا کی بلائیں بھی اب تو سائے سے مِرے کتراتی ہیں

سر پر جو مِرے محبوبؐ خدا کے دستِ کرم کا سایہ ہے

پڑھتا ہوں عالم نعت نبیﷺ اور مست عقیدت رہتا ہو‍ں

ملتا ہے سکون دل تو مجھے بس ذکر نبیؐ میں ملتا ہے


عالم نظامی

No comments:

Post a Comment