Friday, 2 June 2023

داستان غم شبیر کہی جاتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


داستانِ غمِ شبیرؑ کہی جاتی ہے

جو بھی آواز ہے فریاد بنی جاتی ہے

قافلہ دور گیا شام کی راہوں میں مگر

اب بھی زنجیر کی جھنکار سنی جاتی ہے

ٹوٹ جائے نہ تیری آس خدا خیر کرے

بنتِ زہراؑ شبِ عاشور ڈھلی جاتی ہے

منتظر کب سے سکینہؑ ہیں درِ خیمہ پر

اے علمدارؑ! بہت دیر ہوئی جاتی ہے

سر بکف دیکھ کہ حیدرؑ کے پسر کو رن میں

آنکھ تقدیرِ الٰہی کی جھکی جاتی ہے

نوکِ نیزہ پہ ہے قرآن کی تلاوت جاری

یوں کہانی بھی اسیروں کی کہی جاتی ہے

اک اشارہ ہے پیمبر کا جنازہ اختر

بات کہنے کی جو ہوتی ہے کہی جاتی ہے


اختر چنیوٹی

اختیار حسین

No comments:

Post a Comment