نہ جانے وصالِ یار کب نصیب ہو گا
میرے دل کو قرار کب نصیب ہو گا
میں جسے بتا سکوں دل کی باتیں
کوئی ایسا رازدار کب نصیب ہو گا
نفرتیں تو مِلی ہیں بہت زیادہ
اک تھوڑا سا پیار کب نصیب ہو گا
برسوں سے ہے بِکنے کا خواہشمند
کوئی دل کا خریدار کب نصیب ہو گا
جو پھول خزاں کی زد میں ہیں امر
ان کو موسمِ بہار کب نصیب ہو گا
میاں امر
No comments:
Post a Comment