Tuesday, 6 December 2016

جب خیال نیک و بد کرنا پڑا

جب خیالِ نیک و بد کرنا پڑا
ماتمِ اہلِ خرد کرنا پڑا
جو تمہارے حسن پر تھے معترض
مجھ کو ان کا قول رد کرنا پڑا
اس قدر دلکش تھا تیرا ہر سخن
ذکر اس کا تا ابد کرنا پڑا
پھنس گئی منجدھار میں کشتی تو پھر
ہم کو شورِ المدد کرنا پڑا
ہم رہے اپنی وفا میں مستقل
ان کا دعویٰ مسترد کرنا پڑا
عرؔش ہم جس کو چھپاتے ہی رہے
ذکر وہ با شد و مد کرنا پڑا

عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند

No comments:

Post a Comment