جب خیالِ نیک و بد کرنا پڑا
ماتمِ اہلِ خرد کرنا پڑا
جو تمہارے حسن پر تھے معترض
مجھ کو ان کا قول رد کرنا پڑا
اس قدر دلکش تھا تیرا ہر سخن
پھنس گئی منجدھار میں کشتی تو پھر
ہم کو شورِ المدد کرنا پڑا
ہم رہے اپنی وفا میں مستقل
ان کا دعویٰ مسترد کرنا پڑا
عرؔش ہم جس کو چھپاتے ہی رہے
ذکر وہ با شد و مد کرنا پڑا
عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند
No comments:
Post a Comment