رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا
تیرا گھر سب کے گھر سے پوچھ لیا
جو زباں سے نہ کر سکے وہ بیاں
ہم نے ان کی نظر سے پوچھ لیا
گمرہی اور بڑھ گئی اپنی
جب زمیں نے دیا نہ تیرا پتا
ہم نے شمس و قمر سے پوچھ لیا
نہ تم آؤ، نہ آئے گی رونق
ہم نے دیوار و در سے پوچھ لیا
میری چپ کو وہ کیا سمجھتے ہیں
راز جب چشمِ تر سے پوچھ لیا
علم کا راز عرؔش بس یہ ہے
کچھ اِدھر کچھ اُدھر سے پوچھ لیا
عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند
No comments:
Post a Comment