Tuesday, 6 December 2016

رہگزر رہگزر سے پوچھ لیا

رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا
تیرا گھر سب کے گھر سے پوچھ لیا
جو زباں سے نہ کر سکے وہ بیاں
ہم نے ان کی نظر سے پوچھ لیا
گمرہی اور بڑھ گئی اپنی
راستہ راہبر سے پوچھ لیا
جب زمیں نے دیا نہ تیرا پتا
ہم نے شمس و قمر سے پوچھ لیا
نہ تم آؤ، نہ آئے گی رونق
ہم نے دیوار و در سے پوچھ لیا
میری چپ کو وہ کیا سمجھتے ہیں
راز جب چشمِ تر سے پوچھ لیا
علم کا راز عرؔش بس یہ ہے
کچھ اِدھر کچھ اُدھر سے پوچھ لیا

عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند

No comments:

Post a Comment