Tuesday, 6 December 2016

کھنچ کے محبوب کے دامن کی طرف

کھنچ کے محبوب کے دامن کی طرف
آ گئے اور بھی الجھن کی طرف
تم چھپاتے رہو کتنا اس کو
بجلیاں آئیں گی خرمن کی طرف
ہر طرف نور کا تڑکا دیکھا
کون آیا میرے آنگن کی طرف
اے چمن والو! رکوں یا جاؤں
اک دھواں سا ہے نشیمن کی طرف
خیر مقدم کو جھکیں کی شاخیں
اک ذرا آؤ تو گلشن کی طرف
عرش کس دوست کو اپنا سمجھوں
سب کے سب دوست ہیں دشمن کی طرف

عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند

No comments:

Post a Comment