Sunday, 18 December 2016

رقص کرتے تھے الجھتے ہوئے زنجیر سے ہاتھ

رقص کرتے تھے الجھتے ہوئے زنجیر سے ہاتھ
ہائے وہ پھول لٹاتے ہوئے شمشیر سے ہاتھ
یوں دِکھاتے ہیں اسے چاکِ گریباں اپنا
جیسے سچ مچ ہی نکل آئیں گے تصویر سے ہاتھ
بدحواسی کا یہ عالم کہ اسے دیکھتے ہی
جانے کس رَو میں ملانے لگے رہگیر سے ہاتھ
رات بھر عالمِ وحشت میں لہو ہوتے رہے
صبح دم کھینچ لیا نالۂ دل گیر سے ہاتھ
لے ہمیں خاکِ تحیر میں بکھرتا ہوا دیکھ
لے اٹھاتے ہیں تِرے خواب کی تعبیر سے ہاتھ
اس قدر غور سے کیا دیکھ رہے ہو ہم کو
ہم ملاتے ہیں مِری جاں ذرا تاخیر سے ہاتھ

جاوید صبا

No comments:

Post a Comment