رقص کرتے تھے الجھتے ہوئے زنجیر سے ہاتھ
ہائے وہ پھول لٹاتے ہوئے شمشیر سے ہاتھ
یوں دِکھاتے ہیں اسے چاکِ گریباں اپنا
جیسے سچ مچ ہی نکل آئیں گے تصویر سے ہاتھ
بدحواسی کا یہ عالم کہ اسے دیکھتے ہی
رات بھر عالمِ وحشت میں لہو ہوتے رہے
صبح دم کھینچ لیا نالۂ دل گیر سے ہاتھ
لے ہمیں خاکِ تحیر میں بکھرتا ہوا دیکھ
لے اٹھاتے ہیں تِرے خواب کی تعبیر سے ہاتھ
اس قدر غور سے کیا دیکھ رہے ہو ہم کو
ہم ملاتے ہیں مِری جاں ذرا تاخیر سے ہاتھ
جاوید صبا
No comments:
Post a Comment