اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا
پا بہ زنجیر کِیا، اور مجھے چھوڑ دیا
اس نے آنچل سے نکالی میری گم گشتہ بیاض
اور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا
جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کر
ہم کو معلوم تھا انجامِ محبت، ہم نے
آخری حرف سے پہلے ہی قلم توڑ دیا
جاوید صبا
No comments:
Post a Comment