Sunday, 18 December 2016

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا 
پا بہ زنجیر کِیا، اور مجھے چھوڑ دیا
اس نے آنچل سے نکالی میری گم گشتہ بیاض
اور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا
جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کر 
دل کو آنکھوں میں دھڑکنے کیلئے چھوڑ دیا
ہم کو معلوم تھا انجامِ محبت، ہم نے 
آخری حرف سے پہلے ہی قلم توڑ دیا

جاوید صبا

No comments:

Post a Comment