زلف و رخ کے سائے میں زندگی گزاری ہے
دھوپ بھی ہماری ہے چھاؤں بھی ہماری ہے
غم گسار چہروں پر اعتبار مت کرنا
شہر میں سیاست کے دوست بھی شکاری ہے
موڑ لینے والی ہے زندگی کوئی شاید
حال خون میں ڈوبا ہے کل نجانے کیا ہو گا
اب کے خوف مستقبل ذہن ذہن طاری ہے
میرے ہی بزرگوں نے سر بلندیاں بخشیں
میرے ہی قبیلے پر مشقِ سنگ باری ہے
ایک عجیب ٹھنڈک ہے اسکے نرم لہجے میں
لفظ لفظ شبنم ہے، بات بات پیاری ہے
کچھ تو پائیں گے اس کی قربتوں کا خمیازہ
دل تو ہو چکے ٹکڑے، اب سروں کی باری ہے
باپ بوجھ ڈھوتا تھا، کیا جہیز دے پاتا
اس لیے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے
کہ دو میر و غالب سے ہم بھی شعر کہتے ہیں
وہ صدی تمہاری تھی، یہ صدی ہماری ہے
منظر بھوپالی
No comments:
Post a Comment