Sunday, 4 December 2016

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا
ظلم کرنے والوں کی وردیاں جلا دینا
ان سے پوچھیۓ جن کی کائنات جلتی ہے
دیکھنے میں آساں ہے، بستیاں جلا دینا
دربدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
بیلچے اٹھا لینا، ڈگریاں جلا دینا
موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
جنگ جیتنا چاہو، تو کشتیاں جلا دینا
پھر بہو جلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا
ظلم کے اندھیروں سے تم نہ ہارنا منظرؔ
جب چراغ بجھ جائے، انگلیاں جلا دینا

منظر بھوپالی

No comments:

Post a Comment