Monday, 2 January 2017

پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

فلمی گیت

پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا
پردیسیوں کو ہے اک دن جانا
پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

پیار سے اپنے یہ نہیں ہوتے
یہ پتھر ہیں یہ نہیں روتے
ان کے لیے نہ آنسو بہانا
پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

نہ یہ بادل نہ یہ تارے
یہ کاغذ کے پھول ہیں سارے
ان پھولوں کے نہ باغ لگانا
پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

ہم نے یہی اک بار کیا تھا
اک پردیسی سے پیار کیا تھا
رو رو کے کہتا ہے دل یہ دیوانہ
پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

پردیسیوں کو ہے اک دن جانا
پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا

آنند بخشی

No comments:

Post a Comment