کسی راہ میں کسی موڑ پر
کہیں چل نہ دینا تو چھوڑ کر
میرے ہمسفر میرے ہمسفر
میرا دل کہے کہیں یہ نہ ہو
نہیں یہ نہ ہو، نہیں یہ نہ ہو
کسی روز تجھ سے بچھڑ کے میں
تجھے ڈھونڈتی پھروں در بدر
تیرا رنگ سایہ بہار کا
تیراروپ آ ئینہ پیار کا
تجھے آ نظر میں چھپا لوں میں
تجھے لگ نہ جائے کہیں نظر
میرے ہمسفر میرے ہمسفر
تیرا ساتھ ہے تو ہے زندگی
کہاں دن یہ ڈھل جائے کیا پتہ
کہاں رات ہو جائے کیا خبر
میرے ہمسفر میرے ہمسفر
کسی راہ میں کسی موڑ پر
کہیں چل نہ دینا تو چھوڑ کر
میرے ہمسفر میرے ہمسفر
آنند بخشی
No comments:
Post a Comment