آئینہ خانہ
مقید ہوں میں اک آئینہ خانے میں
یہ کیسا آئینہ خانہ ہے؟
جس میں میرے چہرے کی جگہ
اب ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ممکن
سفالِ جاں کے ذرے ذرے پر جاناں
عجب رخ سے
تِرے شوریدہ چشم و لب کا پہرا ہے
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment