Tuesday, 25 August 2020

زخم آنکھوں میں اتر آئے ہیں گہرے کیسے

زخم آنکھوں میں اتر آئے ہیں گہرے کیسے
خواب دیکھے تھے کبھی ہم نے سنہرے کیسے
یہ بھی کیا بات ہے سچ ان کو سنانا مشکل
آئینہ! دیکھ بدل جاتے ہیں چہرے کیسے
بال و پر سارے کتر کے وہ ہمارے خوش ہیں
سوچ پہ پھر بھی بٹھا پائیں گے پہرے کیسے
اب تو غیروں کی شکایت بھی نہیں کر سکتے
زخم اپنوں کے لگے دل پہ یہ گہرے کیسے
زیست کا کربِ مسلسل بھی عطا ہے اس کی
دل کسی بات پہ ٹھہرے بھی تو ٹھہرے کیسے

نزہت عباسی

No comments:

Post a Comment